“You bear the countenance of a houri, an idol sculpted of pure light; and on top of all this, you master the art of burning the heart.”
تم حور کی مانند خوبصورت ہو اور نور کا مجسمہ ہو، اور اس پر بھی تمہیں دل جلانا خوب آتا ہے۔
شاعر یہاں محبوب کے حسن کی بے پناہ تعریف کے ساتھ ایک بڑا دلکش اور نازک شکوہ بھی کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ کا سراپا تو جنت کی حور جیسا پاکیزہ اور نور سے تراشا ہوا ہے، مگر اس معصومانہ روپ کے باوجود آپ کو عاشق کا دل جلانے اور تڑپانے کا ہنر خوب آتا ہے۔ یہ شعر محبوب کی دلکشی اور اس کی ستم ظریفی کے اس حسین تضاد کو سمیٹے ہوئے ہے، جہاں عاشق جل کر بھی اسی خوبصورتی پر فدا رہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
