“A new calamity has been discovered in the world,A doomsday has been wrought before doomsday itself.”
دنیا میں ایک نئی آفت دریافت کی گئی ہے، اور قیامت سے پہلے ہی قیامت برپا کر دی گئی ہے۔
یہ شعر کتنا خوبصورت اور معنی خیز ہے، ہے نا؟ شاعر کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک نئی آفت، ایک نئی مصیبت نمودار ہوئی ہے، جو اتنی شدید ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قیامت کا دن اپنے مقررہ وقت سے پہلے ہی آ چکا ہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانوں کے اعمال یا حالات نے کیسی بڑی تباہی اور دکھ پیدا کر دیے ہیں کہ ہماری موجودہ زندگی ہی ایک جیتی جاگتی قیامت بن گئی ہے، اور ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اصل قیامت میں کیا باقی رہ جائے گا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
