“It is the money of another's sweat, 'Ghayal',Why wouldn't it perform good deeds, just like water?”
اے 'گھائل'، جو پیسہ دوسروں کے پسینے کی کمائی ہے، وہ نیکی کیسے کر سکتا ہے؟ ایسا مال پانی کی طرح بغیر کوئی بھلائی کیے بہہ جاتا ہے اور کوئی ثواب نہیں دیتا۔
”غائل“ کا یہ شعر کتنا خوبصورت ہے! شاعر ہمیں اس پیسے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں جو ہماری اپنی محنت سے نہیں بلکہ کسی اور کے پسینے اور خون سے کمایا گیا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ ایسا پیسہ پانی کی طرح نیک کام کیوں نہ کرے، جو ہر چیز کو بلا تفریق سیراب کرتا ہے۔ یہ دراصل ایک بہت گہرا پیغام ہے کہ دوسروں کی محنت سے حاصل ہونے والی دولت کو نیک مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
