Sukhan AI
غزل

तो कहवाया नहीं

तो कहवाया नहीं
امرت گھائل· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ایک ایسے پراسرار عشق کی بات کرتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ کچھ احساسات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، کہا نہیں جا سکتا۔ یہ عشق کے گہرے اور ماورائی جذبے کا بیان ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
મન મરણ પહેલાં મરી જાય તો કહેવાય નહીં, વેદના કામ કરી જાય તો કહેવાય નહીં.
اگر من موت سے پہلے مر جائے تو کہا نہیں جا سکتا، درد اپنا کام کر جائے تو کہا نہیں جا سکتا۔
اگر انسان کا من جسمانی موت سے پہلے ہی دنیاوی خواہشات سے بے نیاز ہو جائے، تو اس کیفیت کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح، اگر شدید درد اپنا مقصد پورا کر لے اور کسی گہری تبدیلی کا باعث بنے، تو اس کے اثرات کو الفاظ میں ڈھالا نہیں جا سکتا۔
3
આંખથી અશ્રુ ખરી જાય તો કહેવાય નહીં, ધૈર્ય પર પાણી ફરી જાય તો કહેવાય નહીં.
آنکھ سے آنسو بہہ جائیں تو کہا نہیں جاتا،صبر پر پانی پھر جائے تو کہا نہیں جاتا۔
یہ شعر بتاتا ہے کہ جب آنکھوں سے آنسو بہہ جائیں یا صبر پر پانی پھر جائے، تو اس گہری جذباتی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
6
ચાંદની રાત, ભર્યા જામ, સૂરીલાં ગીતો, આજ મારો દી ફરી જાય તો કહેવાય નહીં.
چاندنی رات، بھرے جام، سریلے گیت،آج میرا دن پھر جائے تو کہا نہیں جا سکتا۔
چاندنی رات، بھرے جام اور سریلے گیتوں کے اس خوبصورت ماحول میں، اگر آج میری قسمت بدل جائے تو کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی، کیونکہ ایسا ماحول غیر متوقع واقعات کو دعوت دیتا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.