غزل
तो कहवाया नहीं
तो कहवाया नहीं
یہ غزل ایک ایسے پراسرار عشق کی بات کرتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ کچھ احساسات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، کہا نہیں جا سکتا۔ یہ عشق کے گہرے اور ماورائی جذبے کا بیان ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
મન મરણ પહેલાં મરી જાય તો કહેવાય નહીં,
વેદના કામ કરી જાય તો કહેવાય નહીં.
اگر من موت سے پہلے مر جائے تو کہا نہیں جا سکتا، درد اپنا کام کر جائے تو کہا نہیں جا سکتا۔
اگر انسان کا من جسمانی موت سے پہلے ہی دنیاوی خواہشات سے بے نیاز ہو جائے، تو اس کیفیت کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح، اگر شدید درد اپنا مقصد پورا کر لے اور کسی گہری تبدیلی کا باعث بنے، تو اس کے اثرات کو الفاظ میں ڈھالا نہیں جا سکتا۔
2
બુદ્ધિ સંકટથી ડરી જાય તો કહેવાય નહીં,
પ્રેમપંથેથી તરી જાય તો કહેવાય નહીં.
عقل مشکل سے ڈر جائے تو عقل کہلائے نہیں،راہِ عشق سے تر جائے تو عشق کہلائے نہیں
اگر عقل مشکل سے ڈر جائے تو وہ حقیقی عقل نہیں، اور اگر محبت اپنے راستے سے ہٹ جائے تو وہ حقیقی محبت نہیں۔
3
આંખથી અશ્રુ ખરી જાય તો કહેવાય નહીં,
ધૈર્ય પર પાણી ફરી જાય તો કહેવાય નહીં.
آنکھ سے آنسو بہہ جائیں تو کہا نہیں جاتا،صبر پر پانی پھر جائے تو کہا نہیں جاتا۔
یہ شعر بتاتا ہے کہ جب آنکھوں سے آنسو بہہ جائیں یا صبر پر پانی پھر جائے، تو اس گہری جذباتی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
4
એની આંખોને ફરી આજ સુઝી છે મસ્તી,
દિલ ફરી મુજથી ફરી જાય તો કહેવાય નહીં.
اس کی آنکھوں کو پھر آج سوجھی ہے مستی،دل پھر مجھ سے پھر جائے تو کچھ کہا نہیں جائے گا۔
آج اس کی آنکھوں میں پھر سے مستی چھا گئی ہے۔ اگر میرا دل پھر مجھ سے پھر جائے تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہوگی۔
5
આંખડી ભોળી, વદન ભોળું, અદાઓ ભોળી,
પ્રાણ એ રૂપ હરી જાય તો કહેવાય નહીં.
آنکھیں بھولی، ودان بھولا، ادائیں بھولی،
پران وہ روپ ہَر لے تو کہا نہیں جاتا۔
اگر آنکھیں بھولی، چہرہ بھولا اور ادائیں بھی بھولی ہوں، تو اگر ایسا حُسن روح چرا لے تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔
6
ચાંદની રાત, ભર્યા જામ, સૂરીલાં ગીતો,
આજ મારો દી ફરી જાય તો કહેવાય નહીં.
چاندنی رات، بھرے جام، سریلے گیت،آج میرا دن پھر جائے تو کہا نہیں جا سکتا۔
چاندنی رات، بھرے جام اور سریلے گیتوں کے اس خوبصورت ماحول میں، اگر آج میری قسمت بدل جائے تو کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی، کیونکہ ایسا ماحول غیر متوقع واقعات کو دعوت دیتا ہے۔
7
કંઈ મજા મીઠી તડપવામાં મળે છે એને,
દિલ વ્યથા વેરે વરી જાય તો કહેવાય નહીં.
کچھ شیریں تڑپ میں اسے مزا ملتا ہے،دل بکھری ہوئی اذیت کو ورے، تو کہا نہیں جاتا۔
تڑپ میں کچھ شیریں لذت ملتی ہے۔ اگر دل بکھری ہوئی اذیت کو گلے لگا لے، تو اس کیفیت کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
