غزل
નીકળ્યા!
નીકળ્યા!
یہ غزل کسی خاص واقعے یا شخص کو مخاطب کرتے ہوئے لکھی گئی ہے، جس میں جدائی اور آگے بڑھنے کا جذبہ ہے۔ شاعر سامعین سے کہہ رہا ہے کہ اب انہیں جانا چاہیے اور اپنی راہ پر نکل جانا چاہیے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ના હિન્દુ નીકળ્યા, ન મુસલમાન નીકળ્યા,
કબરો ઉઘાડી જોયું તો ઇન્સાન નીકળ્યા.
نہ ہندو نکلے، نہ مسلمان نکلے،قبریں کھولیں تو بس انسان نکلے.
جب قبریں کھولی گئیں تو نہ کوئی ہندو نکلا، نہ کوئی مسلمان نکلا، بلکہ صرف انسان ہی برآمد ہوئے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ موت کے بعد تمام سطحی امتیازات ختم ہو جاتے ہیں، اور صرف ہماری مشترکہ انسانیت باقی رہتی ہے۔
2
સહેલાઈથી ન પ્રેમના અરમાન નીકળ્યા,
જો નીકળ્યા તો સાથ લઈ જાન નીકળ્યા.
سہولت سے نہ عشق کے ارمان نکلے، جو نکلے تو ساتھ جان لے کر نکلے
محبت کی آرزوئیں آسانی سے نہیں نکلیں۔ اگر وہ نکلیں تو ایسا لگا جیسے جان بھی ساتھ لے کر نکلیں۔
3
તારો ખુદા કે નીવડ્યાં બિન્દુય મોતીઓ,
મારાં કરમ કે અશ્રુઓ તોફાન નીકળ્યાં!
ترا خدا کہ قطرے بھی موتی بن نکلے، مرے کرم کے آنسو طوفان بن نکلے!
تیرے مقدر نے معمولی قطروں کو بھی موتی بنا دیا، جبکہ میرے کرم کے آنسو ایک تباہ کن طوفان بن گئے تھے۔
4
એ રંગ જેને જીવ સમા જાળવ્યા હતાં.
એ રંગ એક રાતના મહેમાન નીકળ્યા.
وہ رنگ جنہیں جان کی طرح سنوارا تھا وہ رنگ ایک رات کے مہمان نکلے
وہ رنگ جنہیں میں نے اپنی جان کی طرح سنبھالا تھا، وہ صرف ایک رات کے مہمان ثابت ہوئے۔
5
મનમેળ કાજ આમ તો કીધા હતા કરાર,
કિન્તુ કરાર ક્લેશનાં મેદાન નીકળ્યાં.
دلوں کے میل کے خاطر یوں کیے تھے اقرار،مگر وہ اقرار تو کلفت کے میداں نکلے۔
دلوں میں ہم آہنگی کے لیے اقرار کیے گئے تھے، مگر وہی اقرار نزاع کے میدان ثابت ہوئے۔
6
કરતા હતા પહાડનો દાવો પલાશ પણ,
આવી જો પાનખર તો ખર્યાં પાન નીકળ્યાં.
کرتے تھے پہاڑ کا دعویٰ پلاش بھی،آئی جو خزاں تو گرے پتے نکلے۔
پلاش کا درخت بھی پہاڑ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا، مگر جب خزاں آئی تو اس کے پتے گر گئے
7
હું મારા શ્વાસ જેમને સમજી રહ્યો હતો,
‘ઘાયલ’, એ શ્વાસ મોતનાં ફરમાન નીકળ્યાં.
میں جنہیں اپنی سانس سمجھ رہا تھا'گھائل'، وہ سانسیں موت کا فرمان نکلیں
'گھائل' جنہیں اپنی سانس سمجھ رہے تھے، افسوس کہ وہی سانسیں موت کا فرمان ثابت ہوئیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
