غزل
મને
મને
یہ غزل خود کی گہری قبولیت اور خود سے محبت کے جذبے کو بیان کرتی ہے۔ نظم میں شاعر 'میں' (خود) کو وجود کے مرکز میں رکھتا ہے، جو زندگی کے سفر کو اندرونی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ اندرونی دریافت اور خود کی شناخت کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ક્યાં હજી પૂરો પિવાડ્યો છે મને!
સાકીએ થોડો ચખાડ્યો છે મને.
کہاں ابھی پورا پلایا ہے مجھے!ساقی نے تھوڑا چکھایا ہے مجھے۔
ساقی نے مجھے ابھی تک سیراب نہیں کیا ہے۔ اس نے مجھے بس تھوڑا سا چکھایا ہے۔
2
દરિયો માનીને રંજાડ્યો છે મને
ચાંદનીએ બહુ દઝાડ્યો છે મને
دریا سمجھ کر ستایا ہے مجھے
چاندنی نے بہت جلایا ہے مجھے
مجھے دریا سمجھ کر ستایا گیا ہے۔ چاندنی نے بہت جلایا ہے۔
3
રાતદી લાગટ કરાવી ઊઠબેસ
બેકરારીએ થકાડ્યો છે મને
رات دن مسلسل کروائی اٹھ بیٹھ
بے قراری نے تھکا دیا ہے مجھے
رات دن مسلسل اٹھ بیٹھ کروائی، بے قراری نے مجھے تھکا دیا ہے
4
ગીચ દુર્ગમ વાયદાની વાટમાં
સાંજ વેળાએ: ઉભાડ્યો છે મને
گنجان دشوار وعدوں کی راہ میں، شام کے وقت: مجھے لا کھڑا کیا ہے۔
مجھے گھنے اور دشوار وعدوں کی راہ میں شام کے وقت کھڑا کر دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دن کے اختتام پر مجھے نامکمل وعدوں کے گرد ایک مشکل صورتحال میں چھوڑ دیا گیا ہے۔
5
જ્યારથી આંખે થયો છું રાતની
ત્યારથી, રાતે જગાડ્યો છે મને
جوں ہی مری آنکھیں رات کی ہوئیں، توں ہی رات نے مجھ کو جگایا ہے۔
مقرر کہتا ہے کہ جب سے اس کی آنکھیں رات کی عادی ہو گئیں، تب سے رات نے ہی اسے بیدار رکھا ہے۔
6
આંધીઓ સારે છે અશ્રુ આજ પણ
ભરયુવાનીમાં બુડાડ્યો છે મને
آندھیاں بہاتی ہیں اشک آج بھی،بھرجوانی میں ڈبویا ہے مجھے
آندھیاں آج بھی آنسو بہاتی ہیں، انہوں نے مجھے بھرپور جوانی میں ڈبو دیا ہے۔
7
મેં મને ખરચ્યો છે છુટ્ટા હાથથી
મેં જ ખરચીને ખુટાડ્યો છે મને.
میں نے خود کو کھلے ہاتھوں سے خرچ کیا ہے،میں نے ہی خرچ کر خود کو ختم کیا ہے۔
میں نے خود کو کھلے ہاتھوں سے خرچ کیا ہے، میں نے ہی خرچ کر خود کو ختم کیا ہے۔
8
પંચતત્ત્વોનું તો કેવળ નામ છે,
માંસ મજ્જામાં ખુતાડ્યો છે મને
پنچ تتّووں کا تو محض نام ہے، گوشت و مَجْجا میں مجھے دھنسا دیا ہے
پانچ عناصر تو فقط ایک نام ہیں؛ اُس نے مجھے گوشت اور مَجْجا میں گہرائی سے دھنسا دیا ہے۔
9
આજ ‘ઘાયલ’ કેફનું શું પૂછ્યું!
આજ ‘તૌબા’એ પિવાડ્યો છે મને.
آج ‘گھائل’ کیف کا کیا پوچھنا!آج ‘توبہ’ نے پلایا ہے مجھے۔
آج 'غائل' کے کیف کا کیا پوچھنا، وہ تو بے مثال ہے۔ آج تو 'توبہ' (گناہوں سے تائب ہونا) نے ہی مجھے کچھ ایسا پلا دیا ہے جس سے میں اس گہرے نشے میں ہوں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
