جوں ہی مری آنکھیں رات کی ہوئیں، توں ہی رات نے مجھ کو جگایا ہے۔
“Ever since my eyes became of the night, Since then, the night has kept me awake.”
— امرت گھائل
معنی
مقرر کہتا ہے کہ جب سے اس کی آنکھیں رات کی عادی ہو گئیں، تب سے رات نے ہی اسے بیدار رکھا ہے۔
تشریح
یہ شعر رات کے سائے میں جاگنے کے احساس کو بیان کرتا ہے۔ گویا، جب آنکھوں کو رات کی عادت ہوئی، تو رات نے خود ہی بیداری کا سبب بن کر جگایا۔ یہ اندرونی کرب کا اظہار ہے۔
