آج ‘گھائل’ کیف کا کیا پوچھنا!آج ‘توبہ’ نے پلایا ہے مجھے۔
“Today, what to ask of 'Ghayal's' intoxication!Today, 'Tauba' itself has made me drink.”
— امرت گھائل
معنی
آج 'غائل' کے کیف کا کیا پوچھنا، وہ تو بے مثال ہے۔ آج تو 'توبہ' (گناہوں سے تائب ہونا) نے ہی مجھے کچھ ایسا پلا دیا ہے جس سے میں اس گہرے نشے میں ہوں۔
تشریح
شعر کا مفہوم یہ ہے کہ آج محبوب کی مستی کا کیا پوچھنا! آج تو توبہ کے نشیلا پن نے مجھے سحر کر دیا ہے۔ یہ عشق سے زیادہ، رُوحانی تسلیم کا نَشہ ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev9 / 9
