غزل
ખંજર સુધી ગયા
ખંજર સુધી ગયા
یہ غزل ایک گہرے جذباتی تصادم اور محبت کے عروج کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر نے محبت کے نام پر ہر حد پار کر دی ہے۔ اس میں جدائی، کامل فداکاری، اور شدید لرنگ کے احساسات کا اظہار کیا گیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ગુસ્સે થયા જો લોક તો પથ્થર સુધી ગયા.
પણ દોસ્તોના હાથ તો ખંજર સુધી ગયા.
غصے ہوئے جو لوگ تو پتھر تک گئے۔ پر دوستوں کے ہاتھ تو خنجر تک گئے۔
جب لوگ غصے میں آئے تو پتھروں تک پہنچ گئے، لیکن دوستوں کے ہاتھ تو خنجروں تک چلے گئے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دوسروں کی دشمنی سے زیادہ دوستوں کی بے وفائی زیادہ گہرا زخم دیتی ہے۔
2
જોયું પગેરું કાઢી મહોબ્બતનું આજ તો,
એના સગડ દીવાનગીના ઘર સુધી ગયા.
آج جو میں نے محبت کے پاؤں کھوجے، اس کے سگڑ دیوانگی کے گھر تک گئے
آج جو میں نے محبت کے پاؤں کھوجے، اس کے سگڑ دیوانگی کے گھر تک گئے
3
તું આવશે નહીં જ હતી ખાતરી છતાં,
નિશદિન હરી ફરી અમે ઉંબર સુધી ગયા.
تُو آئے گا نہیں، یہ یقین تھا پھر بھی، شب و روز ہم بار بار دہلیز تک گئے
مجھے یقین تھا کہ تم نہیں آؤ گے، اس کے باوجود میں دن رات بار بار دہلیز تک جاتا رہا۔
4
એવા હતા મનસ્વી કે આ પ્રેમમાં તો શું,
વેવારમાં ય ના અમે વળતર સુધી ગયા.
ایسے تھے ہم خوددار کہ اس عشق میں تو کیا کہیں، معاملات میں بھی ہم عوض تک نہ گئے
ہم اتنے خوددار تھے کہ اس عشق میں تو کیا کہیں، عام معاملات میں بھی ہم کبھی عوض تک نہیں گئے۔
5
જુલ્ફો ય કમ નહોતી લગારે મહેકમાં,
મૂર્ખા હતા હકીમ કે અત્તર સુધી ગયા.
زلفیں یہ کم نہ تھیں ذرا بھی مہک میں، احمق تھے حکیم جو عطر تک گئے
اس کی زلفوں میں خوشبو کی ذرا بھی کمی نہ تھی؛ حکیم احمق تھے جو عطر ڈھونڈنے گئے۔
6
એમ જ કદાપિ કોઈને લોકો ભજે નહીં,
ખપતું'તું સ્વર્ગ એટલે ઈશ્વર સુધી ગયા.
یوں ہی بھلا کوئی کسی کو بھجتا نہیں،چاہیے تھا سوَرگ، اِس لیے اِیشور تک گئے
یوں ہی بھلا کوئی کسی کو بھجتا نہیں، چاہیے تھا سَورگ، اِس لیے اِیشور تک گئے۔
7
‘ઘાયલ’ નિભાવવી’તી અમારે તો દોસ્તી,
આ એટલે તો દુશ્મનોના ઘર સુધી ગયા.
گھائل، نبھانی تھی ہمیں تو دوستی،اِسی لیے تو دشمنوں کے گھر تک گئے
'گھائل' کہتے ہیں کہ ہمیں تو اپنی دوستی نبھانی تھی، اسی لیے ہم دشمنوں کے گھر تک بھی چلے گئے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
