Sukhan AI
غزل

اکھا بھگت 31

اکھا بھگت 31
اکھا بھگت· Ghazal· 6 shers

یہ نظم، "اکھا بھگت ۳۱" سطحی روحانی سمجھ پر تنقید کرتی ہے، جہاں افراد خود کو روح کا جاننے والا سمجھتے ہوئے بھی انا اور جسم کے قید میں رہتے ہیں۔ یہ دوئی اور سگُن/نِرگُن جیسے فکری تصورات سے ماورا ہو کر حقیقی خود شناسی اور لادُوئی (اَدْوِیت) بصیرت حاصل کرنے کی وکالت کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
અધ્યાત્મ જાણે આત્માથકી નોખો નોખો કહે છે બકી;
وہ روح سے روحانیت کو نہیں جانتا، پھر بھی بَک بَک کرتا ہے کہ یہ الگ ہے۔
2
પોતે જાણે હું આત્મવેત્તા થયો તે થાવામાં દે હભાગજ રહ્યો.
وہ یہ سوچتا ہے کہ میں 'ذات کا حقیقی شناسا' بن گیا ہوں، مگر اس مقام تک پہنچنے میں بھی جسم کا کردار باقی رہتا ہے۔
3
પોતે ટળીને સઘળું પ્રીછ વાટે ચાલતાં આંખ વીંચ;
اپنے انا کو مٹا دو، اور تم سب کچھ سمجھ جاؤ گے۔ زندگی کی راہ پر چلتے ہوئے اپنی آنکھیں کھلی رکھو اور باخبر رہو۔
4
અદ્વૈત દ્વૈતનાં કરે છે કામ સગુણ નિર્ગુણ ધાર્યાં નામ;
اَدْویت، دْویت کے کام کرتا ہے، سگُن اور نِرگُن نام اختیار کرتا ہے۔
5
સગુણ નિર્ગુણ બે છે જોગ પોતે ટળશે તેને પડશે ભોગ.
سگُن اور نِرگُن، یہ دونوں یوگک حالتیں ہیں۔ جو انہیں پار کر جائے گا، اسے بہترین تجربہ حاصل ہوگا۔
6
પોતે ટળ્યા તે પ્રીછ્ યા જાણ તેને શોભે સઘળી વાણ;
جان لو کہ جس نے خودی کو ترک کر دیا، وہی حقیقت کو سمجھتا ہے۔ ایسے شخص کو تمام اقوال اور کلام زیب دیتے ہیں۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.