“He thinks, 'I've now become the Self's true seer,' Yet in that becoming, the body's part remained.”
وہ یہ سوچتا ہے کہ میں 'ذات کا حقیقی شناسا' بن گیا ہوں، مگر اس مقام تک پہنچنے میں بھی جسم کا کردار باقی رہتا ہے۔
یہ دوہا خود شناسی کے سفر میں ایک بہت گہری اور لطیف بات بیان کرتا ہے۔ کوئی شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ 'نفس کا سچا دیکھنے والا' بن گیا ہے، اور دنیاوی لگاؤ سے بالا تر ہو گیا ہے، لیکن شاعر ہمیں آہستہ سے یاد دلاتے ہیں کہ اس بلند مرتبے پر بھی جسم کا ایک چھوٹا سا حصہ، اس کا اثر یا اس کی پہچان، لاشعوری طور پر باقی رہ سکتی ہے۔ یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہماری روحانی اور جسمانی ہستیاں کتنی گہرائی سے آپس میں جڑی ہوئی ہیں، اور حقیقی آزادی شاید ہماری ابتدائی سمجھ سے کہیں زیادہ گہرا اور پیچیدہ عمل ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
