પોતે ટળ્યા તે પ્રીછ્ યા જાણ
તેને શોભે સઘળી વાણ;
“Know this: he who has transcended the self, truly understands; To him, all speech is becoming.”
— اکھا بھگت
معنی
جان لو کہ جس نے خودی کو ترک کر دیا، وہی حقیقت کو سمجھتا ہے۔ ایسے شخص کو تمام اقوال اور کلام زیب دیتے ہیں۔
تشریح
یہ خوبصورت شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی سمجھ تب کھلتی ہے جب ہم اپنے انا کو ترک کر دیتے ہیں۔ تصور کیجیے ایک پرسکون تالاب کا، جو تمام لہریں تھم جانے پر آسمان کو بخوبی دکھاتا ہے – یہی شفافیت انسان کو خود سے بے نیازی کی حالت میں ملتی ہے۔ جب کوئی اس گہری حالت کو پا لیتا ہے، تو اس کا ہر لفظ فطری طور پر باوقار اور مناسب ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ذاتی تعصبات کے بجائے حقیقی حکمت سے نکلتے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت خیال ہے کہ کس طرح عاجزی ہماری ابلاغ کو طاقتور بناتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev6 / 6
