“Know this: he who has transcended the self, truly understands; To him, all speech is becoming.”
جان لو کہ جس نے خودی کو ترک کر دیا، وہی حقیقت کو سمجھتا ہے۔ ایسے شخص کو تمام اقوال اور کلام زیب دیتے ہیں۔
یہ خوبصورت شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی سمجھ تب کھلتی ہے جب ہم اپنے انا کو ترک کر دیتے ہیں۔ تصور کیجیے ایک پرسکون تالاب کا، جو تمام لہریں تھم جانے پر آسمان کو بخوبی دکھاتا ہے – یہی شفافیت انسان کو خود سے بے نیازی کی حالت میں ملتی ہے۔ جب کوئی اس گہری حالت کو پا لیتا ہے، تو اس کا ہر لفظ فطری طور پر باوقار اور مناسب ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ذاتی تعصبات کے بجائے حقیقی حکمت سے نکلتے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت خیال ہے کہ کس طرح عاجزی ہماری ابلاغ کو طاقتور بناتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
