“Advaita performs the deeds of Dvaita, Assuming the names Sagun and Nirgun.”
اَدْویت، دْویت کے کام کرتا ہے، سگُن اور نِرگُن نام اختیار کرتا ہے۔
یہ شعر ہمیں ایک گہرے روحانی سچ سے روشناس کراتا ہے کہ کس طرح ادویت، یعنی ایک واحد حقیقت، ہماری دوئی اور تنوع کی دنیا میں کام کرتی ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ خالق، جو اصل میں بے صفت (نِرگُن) ہے، پھر بھی اپنی صفتوں (سَگُن) کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے، تاکہ ہم اسے سمجھ سکیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے ایک سمندر کی گہرائی تو بے شکل ہے، لیکن وہ لہروں اور موجوں کی شکل بھی اختیار کرتی ہے، جو اسی سمندر کا حصہ ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر ظاہر اور پوشیدہ چیز اسی ایک ذات کا اظہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
