بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہ
طبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے
“Forever drawn toward these idols of clay, O God, what has become of my heart today?”
— اکبر الہ آبادی
معنی
میرا دل ہمیشہ بتوں (خوبصورت محبوبوں) کی طرف ہی مائل رہتا ہے؛ اے خدا، میری طبیعت کو کیا ہو گیا ہے؟
تشریح
اردو شاعری میں ’بت‘ دراصل دنیاوی محبوب کا استعارہ ہے جو بے حد دلکش مگر سنگ دل ہوتا ہے۔ شاعر یہاں بڑی معصومیت اور شوخی کے ساتھ خود خدا سے شکوہ کر رہا ہے کہ آخر اس کے دل کو کیا ہو گیا ہے جو ہر وقت ان بتوں پر ہی مر مٹتا ہے۔ یہ شعر عشقِ مجازی اور بندگی کے تضاد میں انسان کی دلکش بے بسی کو کمال خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
