“Restless you remain both day and night, O Akbar; whose dark tresses have driven you to such madness?”
اے اکبر! تم دن رات پریشان حال رہتے ہو، آخر یہ کس کی زلفوں کی دیوانگی تم پر سوار ہو گئی ہے؟
اس شعر میں لفظ ”پریشاں“ کا بڑا دلکش استعمال ہوا ہے، جس کے معنی الجھن اور بے چینی کے بھی ہیں اور بکھری ہوئی زلف کے بھی۔ شاعر اپنے ہی دل سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے پوچھتا ہے کہ آخر وہ کون سا محبوب ہے جس کی سیاہ زلفوں کی دیوانگی نے تمہارا دن رات کا چین چھین لیا ہے۔ روایتی شاعری میں زلف کا سودا دراصل عشق کے اس پرپیچ جال کی علامت ہے جہاں دل جان بوجھ کر خود کو گم کر دیتا ہے اور اضطراب ہی اس کا سرمایہ بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
