جفا ہو یا وفا ہم سب میں خوش ہیں کریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے

“Be it cruelty or fidelity, in either we find content; what choice remains, now that the heart is hopelessly ensnared?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

چاہے جفا ملے یا وفا، ہم ہر حال میں خوش ہیں۔ اب ہم کیا کریں، کیونکہ ہمارا دل آپ میں اٹک چکا ہے۔

تشریح

یہ شعر عشق کی اس کیفیت کا دلکش اظہار ہے جہاں عاشق ہر شرط سے بے نیاز ہو کر خود کو محبوب کے حوالے کر دیتا ہے۔ محبوب وفا نبھائے یا جفا کے تیر چلائے، عاشق کو ہر حال گوارا ہے کیونکہ اس کا دل اب محبوب کی زلف و ادا میں اٹک چکا ہے۔ یہ دراصل تسلیم و رضا کی وہ پیاری سی لاچاری ہے جس میں شکایت کی گنجائش نہیں رہتی اور واپسی کا ہر راستہ خودبخود بند ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.