“Be it cruelty or fidelity, in either we find content; what choice remains, now that the heart is hopelessly ensnared?”
چاہے جفا ملے یا وفا، ہم ہر حال میں خوش ہیں۔ اب ہم کیا کریں، کیونکہ ہمارا دل آپ میں اٹک چکا ہے۔
یہ شعر عشق کی اس کیفیت کا دلکش اظہار ہے جہاں عاشق ہر شرط سے بے نیاز ہو کر خود کو محبوب کے حوالے کر دیتا ہے۔ محبوب وفا نبھائے یا جفا کے تیر چلائے، عاشق کو ہر حال گوارا ہے کیونکہ اس کا دل اب محبوب کی زلف و ادا میں اٹک چکا ہے۔ یہ دراصل تسلیم و رضا کی وہ پیاری سی لاچاری ہے جس میں شکایت کی گنجائش نہیں رہتی اور واپسی کا ہر راستہ خودبخود بند ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
