“We departed from this world consumed by their memory; what cruel wonder it is, that they have forgotten us entirely.”
ہم جس کی یاد میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، غضب کی بات یہ ہے کہ وہی ہمیں بھول بیٹھا ہے۔
یہ شعر یک طرفہ محبت کے اُس الم ناک پہلو کو بڑی بے ساختگی سے پیش کرتا ہے جہاں ایک شخص اپنا سب کچھ وار دیتا ہے اور دوسرے کو احساس تک نہیں ہوتا۔ عاشق نے تو اپنی پوری زندگی، بلکہ اپنی سانسیں بھی محبوب کے تصور پر نچھاور کر دیں، مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ سنگ دل اُسے سرے سے فراموش کیے بیٹھا ہے۔ لفظ ’غضب‘ یہاں محض حیرت کا اظہار نہیں بلکہ دل کی وہ گہری چوٹ ہے جو محبوب کے دل سے بے دخل ہو جانے پر لگتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
