نہ کیوں کر بوئے خوں نامے سے آئے اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے

“Why wouldn't the scent of blood rise from this letter? After all, it is written by that very executioner.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

اس خط سے خون کی بو کیوں نہ آئے، آخرکار یہ اسی جلاد کا لکھا ہوا ہے۔

تشریح

اردو شاعری میں محبوب کو اکثر شوخی اور دکھ کے ساتھ 'جلاد' کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کی بے رخی عاشقوں کے دل چیر دیتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر اس خط سے خون کی بو آ رہی ہے تو حیرت کیسی، یہ اسی سنگدل محبوب کا لکھا ہوا ہے جو دلوں کا قتل عام کرنے کے لیے مشہور ہے۔ اس شعر میں شوخ بیانی، گہرے درد اور مبالغے کی ایک بڑی دلکش جھلک ملتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.