“Though the Sheikh may court the Brahmin with friendship deep and strong, the temple grants no sacred mark unless he sings its song.”
شیخ صاحب برہمن سے خواہ کتنی ہی دوستی کیوں نہ نبھائیں، لیکن بھجن گائے بغیر مندر سے ٹیکا نہیں ملتا۔
یہ شعر بڑی خوبصورت اور تیکھی طنز کے ساتھ دنیا داری اور مصلحت پسندی کا پردہ چاک کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ شیخ جی برہمن سے لاکھ گہری یاری نبھائیں، مگر جب تک وہ ان کے رنگ میں رنگ کر بھجن نہیں گائیں گے، مندر سے کوئی نفع یا ٹکا حاصل نہیں ہو سکتا۔ دراصل اس مسکراتے ہوئے انداز میں یہ گہری بات کہی گئی ہے کہ مطلب کی دنیا میں محض زبانی خلوص کام نہیں آتا، بلکہ فائدہ اٹھانے کے لیے دوسروں ہی کی دھن پر ناچنا پڑتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
