جس پہ دل آیا ہے وہ شیریں ادا ملتا نہیں زندگی ہے تلخ جینے کا مزا ملتا نہیں

“The sweet-mannered one my heart adores is nowhere in sight; life has grown bitter, and living brings no delight.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

جس دلکش اداؤں والے پر میرا دل آیا ہے وہ ملتا نہیں ہے، اور اس کے بغیر زندگی تلخ ہو گئی ہے اور جینے کا کوئی لطف باقی نہیں رہا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے شیریں یعنی مٹھاس اور تلخ یعنی کڑواہٹ کے خوبصورت تضاد سے دل کا احوال بیان کیا ہے۔ جس میٹھی اداؤں والے محبوب پر دل قربان ہے، جب وہی میسر نہ ہو تو زندگی کا سارا لطف کڑواہٹ میں بدل جاتا ہے۔ یہ شعر نرمی سے بتاتا ہے کہ انسان کے جینے کا اصل رنگ اور چاشنی صرف اور صرف اس کی محبت کی موجودگی سے وابستہ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.