صرف ظاہر ہو گیا سرمایۂ زیب و صفا کیا تعجب ہے جو باطن با صفا ملتا نہیں

“When all the wealth of grace and charm is spent on outward sheen, / What wonder then if purity of heart within is nowhere seen?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

جب خوبصورتی اور زیبائش کا سارا سرمایہ صرف ظاہری دکھاوے پر خرچ ہو گیا ہے، تو اس میں کیا حیرت کہ انسان کا باطن پاک و صاف نہیں ملتا۔

تشریح

شاعر اِس شعر میں دنیا کی ظاہر پرستی اور کھوکھلے پن پر ایک گہرا اور درد مندانہ طنز کر رہے ہیں۔ جب ہم نے اپنی ساری توجہ، سلیقہ اور خوبصورتی محض بیرونی سج دھج پر لٹا دی، تو پھر دل کی پاکیزگی اور باطنی سچائی کا ناپید ہو جانا حیرت کی بات نہیں رہتا۔ یہ شعر دراصل ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ روح کو سنوارے بغیر زندگی کبھی روشن اور پرسکون نہیں ہو سکتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.