“Those in whose gathering once lay all the joy of life, today even of their graves no trace can I find.”
جن لوگوں کی محفل میں کبھی زندگی کا لطف ملا کرتا تھا، آج مجھے ان کی قبروں کا بھی کوئی پتا یا نشان نہیں ملتا۔
یہ شعر وقت کے بے رحم بہاؤ اور زندگی کی ناپائیداری کا بڑا پردرد نوحہ ہے۔ شاعر ماضی کی ان پررونق محفلوں کو یاد کرتا ہے جن کی گرم جوشی اور قربت سے کبھی جینے کا لطف وابستہ تھا۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ گردشِ ایام نے نہ صرف وہ ہنستے بستے لوگ چھین لیے بلکہ ان کی قبروں کے نشانات تک مٹا دیے، اور اب بس ایک سونی ویرانی باقی رہ گئی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
