کشتئ دل کی الٰہی بحر ہستی میں ہو خیر ناخدا ملتے ہیں لیکن با خدا ملتا نہیں

“O Lord, protect the vessel of the heart upon this sea of life; helmsmen abound to steer the craft, yet none who walk with God are found.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

اے خدا، زندگی کے سمندر میں دل کی کشتی سلامت رہے؛ کشتی چلانے والے ملاح تو بہت ملتے ہیں مگر کوئی خدا ترس انسان نہیں ملتا۔

تشریح

اس دلکش شعر میں زندگی کو ایک پُرآشوب سمندر اور دل کو ایک نازک کشتی سے تشبیہ دی گئی ہے جس کی سلامتی کے لیے شاعر درگاہِ الٰہی میں دست بدعا ہے۔ یہاں لفظ 'ناخدا' (ملاح) اور 'باخدا' (خدا ترس اور نیک دل انسان) کے درمیان بڑی گہری رعایتِ لفظی رکھی گئی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ دنیا میں رہنمائی اور ناؤ پار لگانے کا دعویٰ کرنے والے تو جا بجا ملتے ہیں، مگر دل کی باطنی سچائی سمجھنے والے نیک طینت رہنما ناپید ہیں، اسی لیے وہ دنیاوی سہاروں کے بجائے صرف رب کی رحمت کا طلب گار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.