“The burden of my suffering is lighter far than obligation's debt; 'tis a cause for thanks indeed if none arrives to fulfill my need.”
میرے لیے تکلیفوں کا بوجھ کسی کے احسان کے بوجھ سے زیادہ آسان ہے۔ اس لیے یہ شکر کا مقام ہے اگر میری حاجت پوری کرنے والا کوئی نہیں ملتا۔
شاعر یہاں خودداری اور غیرتِ نفس کا ایک بہت خوبصورت پہلو سامنے لاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اپنی مصیبتوں کا بوجھ اٹھانا پھر بھی آسان ہے، مگر کسی کے احسان تلے دب کر جینا انسان کے وقار کو توڑ دیتا ہے۔ اسی لیے وہ دل سے شکر ادا کرتا ہے کہ اس کے برے وقت میں کوئی مددگار نہ آیا، تاکہ اس کا سر کسی کے احسان کے بوجھ سے جھکنے سے بچ گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
