“Gone are those days when the gathering brimmed with friends; alas, today not even a familiar face is to be found.”
وہ دن گزر گئے جب محفل دوستوں سے آباد تھی؛ ہائے افسوس کہ آج کوئی شناسا چہرہ بھی نظر نہیں آتا۔
یہ شعر گزرے ہوئے خوش رنگ دنوں کی یاد اور تنہائی کے گہرے دکھ کی دل کو چھو لینے والی تصویر کشی ہے۔ شاعر ان دلکش لمحوں کو حسرت سے یاد کرتا ہے جب محفلیں مخلص دوستوں کی رونق اور قہقہوں سے جگمگاتی تھیں، مگر گردشِ ایام نے ایسا خلا پیدا کر دیا ہے کہ اب شناسائی کا ایک چہرہ بھی میسر نہیں۔ یہ وقت کے بے رحم تغیر اور بچھڑ جانے والی صحبتوں کا ایسا درد بھرا نوحہ ہے جو سیدھا دل پر اثر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
