“Let the formalists dispute and debate as much as they will; I have come to realize that within the ego, God is never found.”
ظاہری باتوں میں الجھے لوگ جتنا چاہیں بحث و تکرار کر لیں، میں نے تو یہی سمجھا ہے کہ انا اور تکبر میں خدا نہیں ملتا۔
شاعر اس شعر میں ظاہری رسوم اور بحث و مباحثے میں الجھے ہوئے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک گہری صوفیانہ سچائی بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ حق کی تلاش لفظی مناظروں اور منطق کے زور سے ممکن نہیں، بلکہ اس کا راستہ دل کی عاجزی سے ہو کر گزرتا ہے۔ جب تک انسان کے اندر ’خودی‘ یعنی انا اور تکبر موجود ہے، تب تک وہ ذاتِ حق کے حقیقی عرفان سے محروم ہی رہے گا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
