“People advise that one must shun ill fame; tell them, without disgrace, youth has no thrill to claim.”
لوگ کہتے ہیں کہ بدنامی سے بچنا چاہیے، لیکن ان سے کہہ دو کہ اس کے بغیر جوانی کا اصل مزا حاصل نہیں ہوتا۔
اس شعر میں شاعر روایتی اور محتاط سماجی رویوں پر بڑی دلکش اور بے باک چوٹ کرتا ہے۔ دنیا ہمیشہ یہی مشورہ دیتی ہے کہ دامن بچا کر چلو اور بدنامی کے داغ سے ڈرو، لیکن شاعر کا ماننا ہے کہ احتیاط کے دائروں میں جوانی کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ عشق کی تھوڑی سی رسوائی اور سرکشی کے بغیر شباب کا اصل لطف اور تپش بھلا کس کام کی!
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
