غزل

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 7 shers· radif: नहीं होतीं

یہ غزل گہری مایوسی، شکستہ امیدوں اور دلی سکوت کی عکاسی کرتی ہے جہاں دل اب اس حد تک ٹوٹ چکا ہے کہ کوئی ہلچل باقی نہیں رہی۔ شاعر اپنی بے تابی اور اضطراب کو اپنی ہی ہستی کا لازمی جزو قرار دیتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے لہریں دریا سے جدا نہیں ہو سکتیں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
दिल-ए-मायूस में वो शोरिशें बरपा नहीं होतीं उमीदें इस क़दर टूटीं कि अब पैदा नहीं होतीं
دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں امیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں
اس ناامید دل میں اب وہ ہلچل اور ہنگامے برپا نہیں ہوتے۔ امیدیں اس حد تک ٹوٹ چکی ہیں کہ اب دل میں دوبارہ پیدا ہی نہیں ہوتیں۔
2
मिरी बेताबियाँ भी जुज़्व हैं इक मेरी हस्ती की ये ज़ाहिर है कि मौजें ख़ारिज अज़ दरिया नहीं होतीं
مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کی یہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں
3
वही परियाँ हैं अब भी राजा इन्दर के अखाड़े में मगर शहज़ादा-ए-गुलफ़ाम पर शैदा नहीं होतीं
وہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میں مگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں
4
यहाँ की औरतों को इल्म की पर्वा नहीं बे-शक मगर ये शौहरों से अपने बे-परवा नहीं होतीं
یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں
5
तअ'ल्लुक़ दिल का क्या बाक़ी मैं रक्खूँ बज़्म-ए-दुनिया से वो दिलकश सूरतें अब अंजुमन-आरा नहीं होतीं
تعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سے وہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں
6
हुआ हूँ इस क़दर अफ़्सुर्दा रंग-ए-बाग़-ए-हस्ती से हवाएँ फ़स्ल-ए-गुल की भी नशात-अफ़्ज़ा नहीं होतीं
ہوا ہوں اس قدر افسردہ رنگ باغ ہستی سے ہوائیں فصل گل کی بھی نشاط افزا نہیں ہوتیں
7
क़ज़ा के सामने बे-कार होते हैं हवास 'अकबर' खुली होती हैं गो आँखें मगर बीना नहीं होतीं
قضا کے سامنے بے کار ہوتے ہیں حواس اکبرؔ کھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں | Sukhan AI