تعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سے وہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں

“What bond of heart should I keep with the assembly of this world, when those enchanting faces no longer grace the gathering?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

میں اس دنیا کی محفل سے اپنے دل کا کیا تعلق باقی رکھوں، جبکہ وہ دلکش چہرے اب محفل کی رونق ہی نہیں بنتے۔

تشریح

یہ شعر اس گہری اداسی اور بیزاری کی تصویر کشی کرتا ہے جب بھری بزم بھی اپنے پیاروں کے بغیر ویران نظر آتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب دنیا کی اس محفل سے دل کا ناطہ جوڑنے کا کیا فائدہ، جب وہ دلکش اور پیارے چہرے ہی رخصت ہو گئے جن کے دم سے کبھی یہ انجمن سجی ہوئی تھی۔ دراصل یہ شعر تنہائی کا ایک ایسا گداز احساس ہے جو یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی ساری چہل پہل صرف ان لوگوں سے وابستہ ہوتی ہے جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.