“The songs of nightingales entrance me in sweet ecstasy, whether their calls hold any meaning to you or not.”
بلبلوں کے نغمے مجھے وجد و سرور کی کیفیت میں لے آتے ہیں، چاہے آپ کے نزدیک ان کی آواز بامعنی ہو یا نہ ہو۔
یہ شعر عقل اور جذبے کے لطیف فرق کو بڑی خوبصورتی سے واضح کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بلبلوں کی چہچہاہٹ اسے ایک روحانی سرور اور وجد میں مبتلا کر دیتی ہے، خواہ دنیا کی نظر میں اس آواز کا کوئی ظاہری مفہوم ہو یا نہ ہو۔ دراصل حسن، فطرت اور محبت کو سمجھنے کے لیے منطق کی نہیں بلکہ محسوس کرنے والے بیدار دل کی ضرورت ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
