“Once I renounced my idols, I was forsaken by all; alas, I belong to no society at all.”
جب میں نے شرک چھوڑا تو سب نے مجھے تنہا چھوڑ دیا، اب میرا کوئی معاشرہ یا حلقہ احباب ہی نہیں رہا۔
اس شعر میں شاعر نے طنز و مزاح کے دلکش پیرائے میں منافقت اور تنہائی کے المیے کو بیان کیا ہے۔ جب انسان دنیا داری، جھوٹے معبودوں اور سماجی چاپلوسی (شرک) کو ترک کر کے سچائی کی راہ اپناتا ہے، تو وہ دنیا کی نظر میں اجنبی بن جاتا ہے۔ لفظ 'سوسائٹی' کا برجستہ استعمال یہ تلخ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ معاشرہ صرف انہی کو گلے لگاتا ہے جو اس کے باطل رسم و رواج اور ڈھکوسلوں کا حصہ بنے رہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
