“When asked, 'What sort of a man is Akbar?' / With a laugh they said, 'He is no man at all!'”
جب کسی نے پوچھا کہ اکبر کیسا شخص ہے، تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ وہ تو آدمی ہی نہیں ہے۔
اکبرؔ الہ آبادی کا یہ شعر ان کی خاص ظرافت اور خود پر ہنسنے کے انداز کا دلکش نمونہ ہے۔ جب کسی نے پوچھا کہ اکبر کیسا انسان ہے، تو بے ساختہ ہنس کر جواب ملا کہ وہ تو آدمی ہی نہیں ہے۔ اس فقرے میں بڑی خوبصورت شوخی اور گہرائی ہے؛ ایک طرف یہ دنیا کی لاپرواہی ہے جو اکبر کو کسی شمار و قطار میں نہیں لاتی، تو دوسری طرف یہ لطیف پہلو بھی ہے کہ وہ عام انسانوں سے الگ کوئی بالکل ہی انوکھی ہستی ہیں۔ یہ ہنسی کے پردے میں چھپا وہ منفرد انداز ہے جو صرف اکبر ہی کا خاصہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
