جرأت عرض حال کیا ہوتی نظر لطف اس نے کی ہی نہیں

“How could I dare to speak of my heart's plight, when never once did a glance of grace turn my way?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

اپنے دل کی حالت بیان کرنے کی ہمت کیسے ہوتی، جبکہ محبوب نے کبھی التفات یا مہربانی کی نظر سے دیکھا ہی نہیں۔

تشریح

یہ شعر دل کی اس بے بسی اور خاموشی کی عکاسی کرتا ہے جہاں محبت کو لب کشائی کے لیے ذرا سے اشارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان اپنے دل کا احوال تبھی بیان کر سکتا ہے جب سامنے والے کی آنکھوں میں اپنائیت اور توجہ کی ذرا سی جھلک نظر آئے۔ جب محبوب کی طرف سے التفات کی ایک نظر بھی نصیب نہ ہو، تو بھلا دل کی بات زبان پر لانے کا حوصلہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.