حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہی تو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک

“When no sword remains to defend the inner sanctum, for how long can the fragile reeds of a curtain protect?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

جب حرم سرا کی حفاظت کے لیے تلوار ہی باقی نہ رہی، تو پردے کی یہ تیلیاں کب تک کام آئیں گی۔

تشریح

یہ شعر کھوکھلے بھرم اور حقیقی طاقت کے فرق کو کمال نزاکت سے سامنے لاتا ہے۔ شاعر سوال کرتا ہے کہ جب اپنی حرمت اور ناموس کے دفاع کے لیے ہاتھ میں شمشیر ہی نہ رہی، تو پھر چلمن کے کمزور تنکے کب تک حفاظت کر سکیں گے؟ گہرائی میں دیکھیں تو یہ زوال پذیر معاشرے کی بے بسی کا نوحہ ہے، جہاں اصل قوت کھو دینے کے بعد لوگ محض رسمی پردوں کے پیچھے پناہ ڈھونڈنے کی خام خیالی میں مبتلا ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.