“The wife is bound to veil herself, a solemn duty to sustain; / Yet if awareness of the master fades, how long can the master remain?”
بیوی کا وجود شوہر ہی سے ہے اور اس پر پردہ کرنا فرض ہے، لیکن اگر شوہر کی پہچان یا علم ہی ختم ہو جائے تو پھر شوہر کا وجود کب تک باقی رہے گا۔
یہ شعر میاں اور بیوی کے علامتی رشتے کے ذریعے ایک گہری حقیقت بیان کرتا ہے۔ رسم، حیا اور پردے کی پابندی اسی وقت تک باوقار ہے جب تک مالک کی موجودگی اور اس کی پہچان کا احساس قائم ہو۔ شاعر بڑی سادگی سے یہ نکتہ اٹھاتا ہے کہ جب شعور سے بنیاد ہی اٹھ جائے، تو پھر ظاہر کا تعلق اور بھرم آخر کب تک برقرار رہ سکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
