غزل
روح بخشی ہے کام تجھ لب کا
روح بخشی ہے کام تجھ لب کا
اس غزل میں شاعر محبوب کے لبوں کے اعجاز اور حیات بخش حسن کی دلکش انداز میں مدح سرائی کرتا ہے۔ وہ ان لبوں کو دمِ عیسیٰ اور آبِ حیات سے تشبیہ دیتے ہوئے اپنے والہانہ عشق اور فداکاری کا اظہار کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
रूह बख़्शी है काम तुझ लब का
दम-ए-ईसा है नाम तुझ लब का
روح بخشی ہے کام تجھ لب کا
دم عیسیٰ ہے نام تجھ لب کا
2
हुस्न के ख़िज़्र ने किया लबरेज़
आब-ए-हैवाँ सूँ जाम तुझ लब का
حسن کے خضر نے کیا لبریز
آب حیواں سوں جام تجھ لب کا
3
मंतिक़-ओ-हिक्मत-ओ-मआ'नी पर
मुश्तमिल है कलाम तुझ लब का
منطق و حکمت و معانی پر
مشتمل ہے کلام تجھ لب کا
4
जन्नत-ए-हुस्न में किया हक़ ने
हौज़-ए-कौसर मक़ाम तुझ लब का
جنت حسن میں کیا حق نے
حوض کوثر مقام تجھ لب کا
5
रग-ए-याक़ूत के क़लम सूँ लिखें
ख़त परिस्ताँ पयाम तुझ लब का
رگ یاقوت کے قلم سوں لکھیں
خط پرستاں پیام تجھ لب کا
6
सब्ज़ा-ओ-बर्ग-ओ-लाला रखते हैं
शौक़ दिल में दवाम तुझ लब का
سبزہ و برگ و لالہ رکھتے ہیں
شوق دل میں دوام تجھ لب کا
7
ग़र्क़-ए-शक्कर हुए हैं काम-ओ-ज़बाँ
जब लिया हूँ मैं नाम तुझ लब का
غرق شکر ہوئے ہیں کام و زباں
جب لیا ہوں میں نام تجھ لب کا
8
मिस्ल-ए-याक़ूत ख़त में है शागिर्द
साग़र-ए-मय मुदाम तुझ लब का
مثل یاقوت خط میں ہے شاگرد
ساغر مے مدام تجھ لب کا
9
है 'वली' की ज़बाँ को लज़्ज़त-बख़्श
ज़िक्र हर सुब्ह-ओ-शाम तुझ लब का
ہے ولیؔ کی زباں کو لذت بخش
ذکر ہر صبح و شام تجھ لب کا
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
