“Burning ceaselessly in your love, my heart has taken an ascetic's guise; just once, O enchanting beloved, embrace it closely to your breast.”
تمہاری محبت میں جل جل کر میرے دل نے جوگی کا روپ دھار لیا ہے، اے دل لبھانے والے محبوب! اسے ایک بار تو اپنے سینے سے لگا لو۔
اس شعر میں عاشق کا دل محبوب کی محبت کی آگ میں جل جل کر ایک جوگی کی مانند دنیا سے بے نیاز ہو چکا ہے، گویا اس نے عشق میں فقیری اختیار کر لی ہے۔ اب اس تپتے ہوئے دل کا واحد مداوا یہی ہے کہ اس کا پیارا اسے بس ایک بار اپنے سینے سے لگا لے تاکہ اس بے قراری کو قرار ملے۔ دکنی رنگ میں ڈوبا یہ خوبصورت شعر بتاتا ہے کہ سچا عشق انسان کو سب کچھ بھلا کر صرف وصل کے لمس کا طلبگار بنا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
