“Towards your home, O lovely one, Wali turns endlessly his way; yearning for a glimpse of you, pray grant a fleeting sight as you pass by.”
اے خوبصورت محبوب، ولی ہمیشہ تمہارے گھر کی طرف آتا رہتا ہے۔ وہ تمہارے دیدار کا مشتاق ہے، اس لیے ذرا سا اپنا دیدار کراتی جاؤ۔
ولی دکنی نے اس شعر میں محبت کو عبادت جیسا تقدس عطا کیا ہے، جہاں عاشق روزانہ اپنے محبوب کی گلی کا چکر صرف ایک جھلک پانے کی امید میں لگاتا ہے۔ لفظ 'درس' دراصل ہندی کے 'درشن' سے جڑا ہے، جو اس طلب میں صوفیانہ اور قلبی لگن کا رنگ گھول دیتا ہے۔ عاشق کا تقاضا بھی کتنا معصوم ہے—وہ کوئی بڑا دعویٰ یا وعدہ نہیں مانگتا، بس گزرتے گزرتے ایک پل کا دیدار چاہتا ہے تاکہ اس کے تڑپتے دل کو سکون مل سکے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
