“My entire life was spent in adoration of your face; / O worshipper of idols, pause a while and worship this as well.”
میری ساری عمر تمہارے چہرے کی پوجا میں گزر گئی۔ اے بتوں کو پوجنے والی، ذرا ٹھہر اور اس کو بھی پوجتی جا۔
اس شعر میں عاشق اپنی محبوبہ سے محوِ گفتگو ہے جو بتوں کی پوجا کرنے جا رہی ہے۔ وہ پیار بھرے مان سے کہتا ہے کہ میں نے تو اپنی تمام عمر تمہارے پرنور چہرے کی پرستش میں بتا دی ہے اور تم میرے لیے ایک جیتا جاگتا صنم ہو۔ اس لیے بے جان پتھروں کو پوجنے سے پہلے ذرا ایک پل ٹھہر جاؤ، اور میری اس بے لوث بندگی کو بھی شرفِ قبولیت بخشتی جاؤ۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
