“Your curling lock has ensnared the dove of my heart; an act of sacred virtue it would be—pray, set it free as you depart.”
تمہاری زلف کی لٹ نے میرے دل کے کبوتر کو باندھ رکھا ہے؛ یہ نیکی اور ثواب کا کام ہے، اس لیے جاتے جاتے ذرا اسے آزاد کرتی جاؤ۔
شاعر نے اس شعر میں اپنے معصوم دل کو ایک کبوتر سے تشبیہ دی ہے جو محبوب کی زلفوں کے پیچ و خم میں الجھ کر قید ہو چکا ہے۔ وہ بڑی شوخی اور نزاکت سے کہتا ہے کہ کسی قیدی پرندے کو آزاد کرنا تو نیکی اور دھرم کا کام ہے، اس لیے جاتے جاتے اس دل کو رہائی بخشتی جاؤ۔ اس التجاء میں ایک پیاری سی شرارت پوشیدہ ہے، جہاں رہائی کا واسطہ دے کر دراصل عاشق محبوب کی توجہ اور اس کا قرب پانا چاہتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
