زلف تیری کیوں نہ کھائے پیچ و تاب حال مجھ دل کا پریشاں بوجھ کر

“Why would your locks not writhe in tangled unrest, sensing the scattered turmoil of my heart?”

— ولی دکنی
معنی

میرے دل کی پریشان حالت کو جان کر تمہاری زلفیں بے چین اور پیچ و تاب میں کیوں نہ آئیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبوب کی الجھی ہوئی زلفوں کا تعلق اپنے دل کی بے قراری اور انتشار سے جوڑا ہے۔ لفظ 'پریشاں' میں کمال کا حسن ہے، کیونکہ اس کا مطلب بکھرے ہوئے بال بھی ہیں اور اضطراب میں مبتلا دل بھی۔ شاعر کتنے پیار سے گمان کرتا ہے کہ محبوب کی زلفیں یوں ہی پیچ و تاب نہیں کھا رہیں، بلکہ وہ عاشق کے دل کا درد بھانپ کر اسی کی ہمدردی میں بے چین ہو گئی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.