“He alone may be deemed a master of the word, with whom the fair beauties choose to converse.”
الفاظ کا صاحب یا ماہر صرف اسی شخص کو کہا جا سکتا ہے، جس سے خوبصورت لوگ گفتگو کرتے ہیں۔
شاعر یہاں بڑے دلکش اور شوخ انداز میں زبان دانی کا ایک نیا معیار پیش کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ صاحبِ لفظ یعنی کلام کا سچا استاد وہ نہیں جو محض دقیق فلسفہ یا پُرشکوہ الفاظ تراشے، بلکہ وہ ہے جس سے حسین لوگ خود محوِ گفتگو ہونا پسند کریں۔ شاعری اور زباندانی کا اصل کمال علمی رعب میں نہیں، بلکہ اس تاثیر میں ہے جو محبوب کے دل کو موہ لے اور اسے بات کرنے پر آمادہ کر دے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
