“Torment and cruelty shall endure until the Day of Doom; boundless indeed is the stretch in the malice of your dark tresses.”
ظلم و ستم قیامت کے دن تک باقی رہے گا، کیونکہ تمہاری زلفوں کی جفا میں بے حد طوالت اور پھیلاؤ ہے۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی لمبی زلفوں کی درازی کا رشتہ اپنے نہ ختم ہونے والے دکھ درد سے جوڑا ہے۔ زلفیں جس قدر طویل اور پھیلی ہوئی ہیں، عاشق کو لگتا ہے کہ ان سے جڑے ظلم و ستم کا سلسلہ بھی اتنا ہی لاانتہا ہے جو روزِ حشر تک چلے گا۔ یہ محبوب کی جفا اور حسن کے جادو کا ایسا دلکش بیان ہے جس میں عاشق اپنے لامتناہی درد کو بھی محبت کی شان بنا کر پیش کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
