“From the blaze of parting with that tulip-faced beloved, O Wali, this scar upon my breast remains as a lasting keepsake.”
اے ولی، لالہ جیسے چہرے والے محبوب کی جدائی کی آگ کی وجہ سے میرے سینے پر پڑا داغ ایک یادگار نشانی ہے۔
ولی دکنی اس شعر میں ہجر کے اس تپتے ہوئے درد کا ذکر کر رہے ہیں جسے سچا عاشق کسی نایاب تحفے کی طرح سنبھال کر رکھتا ہے۔ لالہ رخ محبوب کی جدائی نے جو آگ دل میں سلگائی، اس سے سینے پر پڑنے والا داغ کوئی معمولی زخم نہیں بلکہ اس کی یاد کا ایک دائمی نشان ہے۔ یہ شعر بڑی خوبصورتی سے بتاتا ہے کہ عشق میں ملنے والی تکلیف بھی اگر محبوب کے نام سے جڑی ہو تو کتنی دلکش اور عزیز بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
