“Without you, my heart knows only restlessness; shedding endless tears is all my eyes can do.”
تیرے بغیر میرے دل کو بے قراری لگی ہے اور میری آنکھوں کا کام بس آنسو بہانا رہ گیا ہے۔
دکنی زبان کی مٹھاس اور سادگی میں ڈوبا یہ شعر ہجر کی تڑپ کو بے حد خوبصورتی سے سمیٹتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی دوری میں دل ایک لمحے کو بھی قرار نہیں پاتا اور آنکھیں گویا بس آنسوؤں کی جھڑی لگانے کے کام پر لگی ہوئی ہیں۔ یہاں اندرونی بے چینی اور بیرونی اشک باری کا ایسا دلکش منظر ہے جہاں فراق محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ عاشق کے جینے کا ڈھنگ بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
