सुत बनितादि जानि स्वारथ-रत न करु नेह सबही तें । अंतहुँ तोहिं तजेंगे, पामर ! तू न तजै अबही तें ॥

“Know son, wife, and kin as bound by selfish ends; bestow not your love on them all. In the end they shall forsake you, O wretched fool, why do you not renounce them even now?”

— تلسی داس
معنی

بیٹے اور بیوی وغیرہ کو خود غرض جان کر ان سب سے دل مت لگاؤ۔ اے نادان! آخرکار وہ تجھے چھوڑ ہی دیں گے، تو پھر تو ابھی سے انہیں کیوں نہیں چھوڑ دیتا؟

تشریح

یہ شعر دنیاوی رشتوں کی بے ثباتی اور ان کے پیچھے چھپی خود غرضی کا آئینہ دکھاتا ہے۔ شاعر بڑے خلوص سے انسان کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتا ہے کہ جن عزیزوں اور اہل خانہ کے موہ میں ہم عمر گنوا دیتے ہیں، وہ بھی انجام کار ہمیں تنہا چھوڑ جائیں گے۔ اس لیے وقت کی بے رحم جدائی کا انتظار کرنے کے بجائے، دانائی یہی ہے کہ انسان ابھی سے دل کو اس فانی دنیا کے فریب سے آزاد کر لے اور حق سے لو لگائے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.