“Mighty sovereigns like Sahasrabahu and ten-headed Ravana escaped not all-powerful Death; with vain pride we amassed wealth and built estates, only to depart in the end empty-handed.”
سہسر باہو اور راون جیسے طاقتور بادشاہ بھی زبردست موت سے نہ بچ سکے۔ انسان نے غرور میں 'میں، میں' کہہ کر دولت اور محلات تو سمیٹے، لیکن انجام کار سب خالی ہاتھ ہی رخصت ہوئے۔
یہ شعر انسانی غرور اور زندگی کی ناپائیداری پر ایک گہری اور دلنشین چوٹ ہے۔ شاعر یاد دلاتا ہے کہ جب سہسرباہو اور راون جیسے طاقتور اور ناقابلِ تسخیر راجہ بھی موت کے بے رحم ہاتھ سے نہ بچ سکے، تو پھر ہمارا یہ تکبر کیسا؟ ہم ساری عمر 'میں اور میرا' کے فریب میں مال و دولت سمیٹتے اور محل بناتے ہیں، مگر انجامِ کار سب کو خالی ہاتھ ہی اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
