“The mind shall grieve once this fleeting chance is gone; having won this rare human form, revere the Lord's feet through deed, word, and heart alone.”
وقت گزر جانے کے بعد یہ دل پچھتائے گا۔ اس لیے یہ نایاب انسانی جسم پا کر اپنے عمل، قول اور دل سے پربھو (خدا) کے قدموں کی بندگی کرو۔
شاعر بڑے پیار اور خیرخواہی سے انسان کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ زندگی ایک نایاب موقع ہے، جو ہاتھ سے نکل گیا تو سوائے پچھتاوے کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اصل بندگی صرف رسم و رواج تک محدود نہیں، بلکہ اپنے عمل، قول اور دل کی گہرائیوں کو سچائی اور رب کی یاد میں ڈھالنے کا نام ہے۔ وقت کی ریت پھسلنے سے پہلے روح کو بیدار کر لینا ہی اصل دانائی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
