रविकर-नीर बसै अति दारुन मकररूप तेहि माहीं । बदनहीन सो ग्रसै चराचर पान करन जे जाहीं ॥

“Within the sunbeam-mirage dwells a crocodile fierce and dire; bodiless, it devours all creation that goes to quench its desire.”

— تلسی داس
معنی

سورج کی کرنوں سے بننے والے سراب میں ایک نہایت خوفناک مگرمچھ رہتا ہے۔ وہ بغیر جسم کے بھی ان تمام مخلوقات کو نگل لیتا ہے جو وہاں پانی پینے جاتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں سراب یعنی دھوپ میں چمکتے جھوٹے پانی کا ایک نہایت گہرا استعارہ باندھا گیا ہے، جس میں ایک خوفناک مگرمچھ گھات لگائے بیٹھا ہے۔ یہ بے جسم شکاری دراصل دنیا کی فریب کاری، مایا اور لامتناہی خواہشات کی علامت ہے جو نظر نہ آتے ہوئے بھی سب کچھ نگل جاتی ہے۔ جب انسان مادی دھوکے کو سچ جان کر اپنی پیاس بجھانے نکلتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر اسی باطنی سراب کا لقمہ بن کر اپنی ہستی کھو دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.