सून्य भीति पर चित्र, रंग नहिं, तनु बिनु लिखा चितेरे । धोए मिटै न, मरै भीति-दुख, पाइय यहि तनु हेरे ॥

“Upon the wall of the void, a picture is drawn without color by a bodiless painter; it washes not away, ending the sorrow of the wall, discovered only by searching within this form.”

— تلسی داس
معنی

ایک بے جسم مصور نے خلا کی دیوار پر بغیر رنگوں کے ایک تصویر بنائی ہے؛ یہ دھونے سے نہیں مٹتی، سارے دکھ ختم کرتی ہے اور اسی جسم کے اندر تلاش کرنے سے ملتی ہے۔

تشریح

یہ شعر باطن کے اس پراسرار اور پاکیزہ جلوے کی بات کرتا ہے جسے بے صورت خالق نے بغیر کسی رنگ کے وجود کے کینوس پر تراشا ہے۔ یہ ایک ایسا انمٹ نقش ہے جو کبھی دھندلا نہیں سکتا، اور جس کا عرفان حاصل ہوتے ہی دل کے سارے دکھ اور خوف فنا ہو جاتے ہیں۔ شاعر بڑی محبت سے سمجھاتے ہیں کہ اس انمول حقیقت کو کہیں باہر ڈھونڈنے کے بجائے، بس اپنے ہی اندر اور اپنی روح کی گہرائیوں میں تلاش کرنا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.